4 ستمبر 2013 - 19:30
جی-20 کا اجلاس شروع

اقتصادي اعتبار سے اہم ملکوں کے گروپ بيس کا اجلاس روس کے شہر سينٹ پيٹرز برگ ميں شروع ہوا ہے ۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ اس اجلاس ميں اقتصادي معاملات سے زيادہ شام کا بحران حاوي رہے گا ۔

ابنا: روس کي ميزباني ميں گروپ بيس کے رکن ملکوں کا سربراہي اجلاس شروع ہوگيا ہے ۔ روسي صدر پوتين نے يکم دسمبر دو ہزار بارہ  سے گروپ بيس کي سربراہي سنبھال لي ہے ۔ روسي صدر پوتين  سينٹ پيٹرزبزرگ ميں دنيا کے انيس ملکوں کے سربراہوں کي ميزباني کررہے ہيں جبکہ دنيا کے تينتيس ملکوں کے نمائندہ وفود بھي اس اجلاس ميں شريک ہيں ۔ گروپ بيس سن دوہزار آٹھ ميں عالمي معاشي بحران کے وجود ميں آنے کے بعد تشکيل پايا تھا ۔ روسي صدر پوتين کے بقول جمعرات سے شروع ہونےوالے گروپ بيس کے اجلاس کا سب سے اہم ايجنڈا روزگار کے مواقع کي فراہمي اور اقتصادي و معاشي رونق کو بحال کرنا ہے ۔ گروپ بيس کے ارکان پانچوں براعظموں سے  تعلق رکھتے ہيں ۔جنوبي امريکا سے برازيل اور ارجنٹينا شمالي امريکا سے امريکا اور کينيڈا مرکزي امريکا سے ميکسکو شامل ہيں جبکہ يورپ سے روس برطانيہ فرانس جرمني اور اٹلي شامل ہيں ايشيا سے ہندوستان چين جاپان انڈونيشيا جنوبي کوريا اور ترکي شامل ہيں بحرالکاہل سے صرف آسٹريليا اور عرب دنيا سے فقط سعودي عرب اس گروپ ميں نمائندے کرتا ہے جبکہ براعظم افريقہ سے صرف جنوبي افريقہ ہي گروپ بيس کا ممبر ہے ۔ سينٹ پيٹرزبرگ ميں جمعرات سے شروع ہوئے اس ا جلاس ميں صرف معاشي معاملات پر ہي بات چيت مرکوزنہيں ہوگي بلکہ شام پر امريکا اور اس کے اتحاديوں کے ممکنہ حملے کو مذکورہ اجلاس کا اہم ترين موضوع سمجھا جارہا ہے جبکہ يہ بھي کہا جارہا ہے کہ شام کا موضوع ہي اجلاس ميں شريک ملکوں کے رہنماؤں کے درميان اختلافات کا باعث بھي بنے گا ۔امريکي صدر اوباما اور فرانس کے صدر اولينڈ اجلاس کے دوران کوشش کريں گے کہ شام پر حملے کے لئے مزيد ملکوں کو اپنا ہمنوا بنايا جائے ليکن ان ملکوں کا ميزبان يعني روس مشرق وسطي ميں امريکا کي يکطرفہ لشکرکشي کا سخت مخالف ہے چين بھي مشرق وسطي ميں فوجي مداخلت کا مخالف ہے جنوبي افريقہ اور ارجنٹينا نے بھي شام پر امريکا کے ممکنہ حملے کي مخالفت کي ہے جبکہ ہندوستان بھي کہہ چکا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کي اجازت کے بغير شام کے خلاف کسي بھي قسم کي فوجي مداخلت کا مخالف ہےدوسري طرف امريکا کا سب سے اہم اتحادي برطانيہ پہلے ہي اپني پارليمنٹ کے فيصلے کي وجہ سے امريکا ساتھ دينے سے انکار کرچکا ہے ليکن امريکا کے يورپي اتحاديوں کي جگہ ترکي نے پر کرنے کي کوشش کي ہے اور وہ جنگ کا نقارہ بجانے ميں پيش پيش ہے ۔ ادھر سعودي عرب نہ صرف يہ کہ جنگ کا سب سے بڑا حامي ہے بلکہ اس نے تو شام کے خلاف جنگ ميں ہونےوالے تمام اخراجات برداشت کرنے کا بھي وعدہ کرليا ہے ۔ اور قطر نے اس کا ساتھ دينے کا اعلان کيا ہے ۔ جبکہ برازيل اور ميکسکو نہ تو جنگ کے سخت مخالفين ميں سے ہيں اور نہ ہي امريکا کے حاميوں ميں سے جبکہ شام پر حملے کے تعلق سے يورپي يونين کا موقف بھي مخمصے سے دوچار ہے ۔ماہرين کا کہنا ہے کہ شام کے معاملے پر لے کر رکن ملکوں ميں پايا جانے والا يہي اختلاف اس اجلاس کو جس کا اہم مقصد معاشي معاملات پر تبادلہ خيال کرنا ہے بري طرح متاثرکرے گا ۔

.......

/169